معاشیات سے متعلق جدید چیلنجز

مروجہ معاشیات اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ اس سے انسانی دنیا کے معیشت سے متعلق مسائل کےمنصفانہ حل کی توقع محال ہے۔آج دنیا میں ظلم و بربریت کا جو دارو دورہ ہے ان میں اکثر کا سر رشتہ مروجہ معاشی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ دور جدید میں معیشت کے جو  تصورات 'طور طریقے اور عرف رائج ہیں ان  کے ذکر میں دو الگ الگ نظاموں' یعنی سرمایہ داری اور اشترالیت' کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حقیقتاً' بلکہ عملاً' یہ دونوں ایک ہی نظام حیات کی دو شاخیں ہیں۔  ہو سکتا ہے اپنی ابتداء میں اپنی غیر عملی دعووں کی بناء پر یہ دونوں باہم متصادم دو طریقے سمجھے جاتے ہوں لیکن آج ہم انہیں جس مقام پر پاتے ہیں ان میں کوئی جوہری فرق تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ دونوں کی قلعی اتر چکی ہے  اور اپنی عملی صورت کے لحاظ سے دونوں  ایک  'یا کم از کم ایک جان  دو قالب' ہو چکے ہیں۔ 

اس مقالہ میں ان تمام  مسائل کا تفصیلی ذکر' جو مروجہ معاشی نظام کے پیدا کردہ ہیں' نہیں کیا جا رہا ہے۔ البتہ چار امور کے ذکر پر اکتفا کیا جائے گا۔

]الف]     معیشت کے کل کمیت(size) کوناپنے کا دو طریقہ ہوتا ہے ۔ ایک حقیقی معیشت  (Real Economy) اور دوسری تمویلی معیشت (Financial Economy)۔ اول الذکر میں کل پیداوار و خدمات کی قیمت کا لحاظ کیا جاتا ہے۔  گروس ڈومسٹک پراڈکٹ   (Gross Domestic Product) اس کی مثال ہے ۔ آخرالذکر میں بازار میں لین  دین کے تمسکات (Documents)   کی مجموعی  قدر کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ چونکہ لین دین کے تمسکات کا تعلق پیداوار و خدمات سے ہی ہوتا ہے اس لئے ایک صحتمند معیشت میں دونوں میں بہت زیادہ تفاوت نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ  آخرالذکر ادھار بیع کے سبب کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔ جدید دنیا کی صورت حال  اس لحاظ سے دگرگوں ہے۔ تمویلی معیشت ایک اندازہ کے مطابق حقیقی معیشت  سے کم از کم دس گنا زیادہ ہے۔ اس زیادتی کا سبب قمار اور قیاس آرائی(Speculation) پر مبنی طریقہ کار ہیں جن میں بیش تر معیشت کی تباہی کا  باعث ہیں۔ ان کی افادیت ان کی پیدا کردہ مصیبتوں اور خطرات سے زیادہ ہیں۔

]ب]        کاروبار میں قرض کا عمل دخل بہت زیادہ ہو گیا ہے۔یعنی  نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر سرمایہ کاری  (Equity)قرض  (Debt)کے مقابلہ میں کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ سود کی بنیاد پر قرض کا حصول آسان ہو گیا ہے۔

]ج]         بڑے کاروباری ادارے ' خصوصی طور پر بین الملکی کارپوریٹ سکٹر (Multi-national Companies) اپنے وافر سرمایہ کے سبب اتنا رسوخ حاصل کر چکے ہیں کہ ملکوں کی معیشت پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں اور حکومتوں سے ایسے فیصلے کرا لینے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں جو عوام کے مفادات کے منافی ہوتے ہیں۔ اکثر حکومتوں کا نظم و نسخ ان کے ممنون و مشکور افرادبلکہ کارندوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔

]د]           مستقبل میں استعمال ہونے والے وسائل حیات آج ہی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ آسان قرض (Easy Credit) کی فراہمی میں ایسا کرنا ممکن اور سہل ہو گیا ہے۔ وسائل حیات کے اس بے محابہ استعمال سے دیگر نقصانات کے ساتھ اس زمین پر انسانی زندگی کے مستقبل  اور  ماحولیات کے ناقابل تلافی خراب ہو جانے کے خطرات  پیدا ہو گئے  ہیں۔

درج بالا خرابیوں کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان میں نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں۔

]الف]     انسانوں کی فلاح کے لئے جو علوم بنے ان میں شائد معاشیات کو یہ منفی طرہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں اقدار کی نفی مسلمہ اصول کے طور پر کی جاتی ہے اور صاف صاف بیان کر دیا جاتا ہے کہ علم معاشیات کو اقدار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  (Economics is Value-Neutral) ۔ یہاں بنیادی نکتہ اچھی کارکردگی(Efficiency) سے قلیل وسائل (Scarce Resources)   کا استعمال ہے تاکہ  بیش از بیش افادیت (Utility) کا حصول ہو۔پیداوار' خدمات' طلب اور رسد وغیرہ کے اصول اسی غرض سے وضع کئے گئے ہیں۔ بلاشبہہ انسانی ضروریات کی تکمیل (Need Fulfilment)' مکمل روزگار (Full Employment)اوراور پائدار  معیشت کی رفتار ترقی(Sustainable Rate of Economic Growth) وغیرہ مروجہ معیشت کے بنیادی مقاصد (Normative Goals)میں شامل ہیں لیکن اقدار کی نفی کے ساتھ یہ سب دیرینہ خواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے یعنی جب سے زمین کے معاملات کی باگ ڈور مروجہ معیشت کے ہاتھ میں آئی ہے' دنیا میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس بات پر شاہد ہے کہ تیز رفتار مجموعی ترقی کے باوجود ترقی کے ثمرات  سے انسانی آبادی کا بڑا حصہ نہ صرف محروم رہا ہے بلکہ اس کی حالت زار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

]ب]        سود' جو ماقبل کی تاریخ میں' شر' کے مقام پر متصور کیا جاتا رہا تھا' اسے مروجہ معاشیات نے علمی جواز فراہم کر دیا۔ اب اس کے بغیر معیشت محال سمجھی جاتی ہے۔اس کے سبب زر  اور قرض کے تمسکات(Money and Debt-Documents) قابل بیع (Tradable) بن گئے۔

]ج]         قمار اور قیاس آرائی پر مبنی تمسکات  کی بہتات نے یہ تصور عام کر دیا کہ انسانوں کی کسی حقیقی ضرورت کی تکمیل اور پیداوار و خدمات سے قطع تعلق ہو کر  بھی قانونی جواز کے ساتھ دولت  اکٹھی کی جا سکتی ہے۔  ان  کو انسانی نفسیات نے ' کوئی حرج محسوس کئے بغیر'  معمولات زندگی کے طور پر قبول کر لیا۔ مروجہ معاشیات کے 'حسن کرشمہ ساز' نے اس طرح'شر' کو 'خیر' کے مقام پر فائز کر دیا۔

متبادل  معاشیات کے سلسلہ میں غور و فکر سے قبل ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ متبادل نظام تک رسائی ہمیشہ انقلابی نہیں ہوتی ہے۔جہاں تک عقائد کا تعلق ہے ان میں مکمل تبدیلی ایک ساتھ   کی جاتی ہے۔ لیکن معاملات کی دنیا میں تمام   امور کا یکسر تبدیل  کیا جانا نہ ممکن ہے' نہ مطلوب اور نہ مفید۔  بہ الفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں حریت(Revolutionary) نہیں بلکہ ارتقائی  (Evolutionary)عمل کی ضرورت ہے۔ معاملات میں بھی عقائد کی طرح حریت فکر ' مطلوب تبدیلی کی واضح تصویر اور ان پر یقین و اعتماد لازم ہے۔ البتہ تبدیلی کے عمل کو حکمت سے ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔  ویسے بھی ہر زمانہ' ہر علاقہ اور ہر طرح کی معاشی حالت کے پیش نظر  بنیادی تصورات کی  یکسانیت اور وضاحت کے باوجود کوئی ایک نسخہ کیمیا تیار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

 متبادل معیشت کی تلاش میں درج ذیل امور کا لحاظ کیا جانا مناسب ہے۔

]الف]     مروجہ طریقہ میں مفید و نامفید  چیزوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ علمی اور عملی دنیا میں 'من و تو' کا فرق نہیں ہو سکتا ہے۔ ہر  مفید چیز انسانی سماج کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ معاشیات کے میدان میں بھی ایسی چیزوں کی کمی نہیں ہے جنہیں اپنا سمجھ کر اپنانا چاہئے۔ اسی طرح قابل رد چیزوں کی نشاندہی میں بھی کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے۔

]ب]        مروجہ معاشیات سے مطلوب و متبادل معاشیات کے سفر کے تمام مراحل اور نقشہ کار کو تیار کر کے یہ سفر شروع کرنا چاہئے۔  اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں کی حرمت اور شناعت بالکل  واضح ہیں' مثلاً سود اور سٹہ '  وہ بھی  مروجہ  معیشت میں اس درجہ شامل ہیں کہ متبادلات کو بغیر متعینہ  نقشہ کار کے لانے کی کوشش میں  زیادہ بگاڑ پیدا ہونے کے خدشات ہیں۔

]ج]         جدید دنیا میں بغیر قرض کے (Debt Free)  متعدد بڑے کاروباری ادارے کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ ان کا مطالعہ کرکے عملی طور پر درپیش مسائل اور ان سے نبرد آزما ہونے کے طریقہ کار کی تعین ہونا چاہئے۔

]د]           نفع و نقصان کی شراکت پر ونچر کیپیٹل (Venture Capital)   کی بنیاد پر دنیا میں بہت مفید تجربات ہوئے ہیں۔ خصوصاً امریکہ کے سیلیکن ویلی (Silicon Valley) میں سافٹ ویئر     میں تیز رفتار ترقی اس طریقہ پر ہوئی ہے۔ یہ طریقہ قرض کی بنیاد پر تمویل کی نفی کی بنیاد پر ہے۔ ان تجربات سے استفادہ اور اپنی ضرورت کے لحاظ سے نئے تجربات کی ضرورت ہے۔

]ہ]           ہندوستان  کی معیشت پیداوار اور خدمات  کی بنیادوں پر استوار ہوئی ہے جب کہ مشرق وسطی کی معیشتیں عموماً کرایہ داری پر مبنی(Rentier-Based)  ہیں )یعنی وہاں پیداواری عمل ناقابل اعتناء ہے)۔ اس کی وجہ سےغیر سودی  تمویل کے جو تجرابات وہاں ہوئے ہیں ان کی معنویت ہماری معیشت  کے لئے زیادہ نہیں ہے۔  یہاں کے حالات میں نئے اصول و ضوابط اور نئی راہیں تلاش کرنی ہوں گی۔

]و]           مروجہ معاشیات کا ایک بڑا مسئلہ  افرارد و خاندان کا مستقبل کی آمدنی کی بنیاد پر حال کے اخراجات ہوتے ہیں۔ اس طرح مستقبل کی آمدنی سے قسط وار ادئیگی کے طریقے پر قرض کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور بحیثیت مجموعی سماج مقروض ہوتا جاتا ہے اوراس طرح بے قابو  صارفیت  (Uncontrolled Consumerism) معیشت  کےساتھ ساتھ ماحولیات کے لئے بھی مضر ہوتی ہے۔ مگر اس طریقہ کو کلی طور پر ختم کرنا محال ہے۔ اس لئے اس کے اصول اور نظم و ضبط اور حدود تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

]ذ]           افراد و خاندان کی طرح ممالک بھی حالیہ آمدنی سے زاِئد اخراجات کا طریقہ اختیار کرتے ہیں جسے خسارہ کی تمویل (Deficit Financing)کہتے ہیں۔حکومتیں اس خسارہ کو نئے نوٹ چھاپ کر یا ملک و بیرون ملک سے سود کی بنیاد پر قرض حاصل کر کے پوری کرتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں فسکل ڈیفیسٹ   ) (Fiscal Deficit پر قابو پانے کے لئے جی ڈی پی (GDP) کے حوالے سے ایک طریقہ رائج ہے ۔  خسارہ کو جی ڈی پی کے تناسب سے کنٹرول کرنے کا تجربہ اچھا  نہیں ہے۔  عملاً اس کنٹرول کے باوجود ممالک کے قرض  اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ ہر سال نئے قرض کاتقریباً پورا حصہ پرانے قرض کے سود اور ایک سال کی قسطوں کی ادائیگی میں استعمال ہو جاتا ہے۔  اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرض کے ذریعہ  عمومی اور نتیجہ خیز (Productive) اخراجات  کا موقع صرف شروع کے چند برسوں میں ممکن ہوتا ہے اور بعد کے برسوں میں نیا قرض پرانے قرض کی ادائیگی کی نظر ہو جاتا ہے۔ یعنی شروع کے دنوں میں ہی خسارہ کی تمویل سے بچا جا سکے تو  مسائل قابو میں رہیں گے۔ ترقی پذیر ممالک کے لئےخسارہ کی تمویل سے مطلقاً بچنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ  خسارہ کو کنرول کرنے کے لئےجی ڈی پُی   کے تناسب سے کنٹرول کرنے کے رائج کے مقابلہ میں کل اخراجات کے تناسب کے قابو میں رکھنا زیادہ مناسب ہے۔

]ح]         زر کی پیداوار کا جدید طریقہ انتہائی ظالمانہ ہے۔ اسے مروجہ معاشیات کی بیش تر خرابیوں کی ماں کہنا مناسب ہو گا۔ زر کے سلسلہ میں موجودہ طریقہ کی چند نمایاں خرابیوں کا ذکر درج ذیل ہے ۔

                1۔           زر کی پیداوار   اور نوٹوں کی طباعت کے بعد بازار میں آتے ہی سود کا عنصر در کر جاتا ہے؛

                2۔           بین الاقوامی لین دین میں  امریکی ڈالر کی بلا وجہ' بلکہ غیر منصفانہ' بلکہ ظالمانہ بالادستی قائم ہے ؛

                3۔           زر کی کل کمیت کے سلسلہ میں سونے  کے معیار(Gold Standard)  کو ختم کر دی گیا ہے؛  اور

                4۔           ڈالر میں عالمی وبین الملکی لین دین  کا انحصارامریکی حکومتی انتظامیہ کی مرضی  کے تحت ہی ہو سکتا ہے-

اصلاح  کا کوئی بھی عمل اس معاملہ کی اصلاح کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ہے۔